منگل 8 ستمبر 2026 - 18:24
آج ہمیں شیخ انصاری جیسے ایسے علما کی ضرورت ہے جو عصر حاضر کے مسائل کا حل پیش کریں

حوزہ/ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے سربراہ آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے علمی جدوجہد کو دفاعی جدوجہد کے ساتھ جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج معاشرے کو ایسے علماء اور ماہرین کی ضرورت ہے جو شیخ انصاریؒ کی طرح گہری علمی بصیرت اور اجتہادی طریقے سے عصر حاضر کے نئے مسائل کا جائزہ لے کر ان کا حل پیش کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ حسینی بوشہری نے قم میں مجتمع آموزشی و پژوهشی ائمہ اطہارؑ کے نئے تعلیمی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی میں مسلسل ترقی اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر انسان کے دو دن ایک جیسے ہوں اور اس کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے تو وہ خسارے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان مادی نقصان کا ازالہ کر سکتا ہے، لیکن گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اس لیے طلبہ اور فضلا کو اپنے تعلیمی دور کے ہر لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

آیت اللہ حسینی بوشہری نے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملک کے دفاع کے لیے دفاعی جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے، اسی طرح علمی، فکری اور تحقیقی جدوجہد بھی کسی صورت نہیں رکنی چاہیے۔ دشمن فوجی اور سیاسی ذرائع کے ساتھ فکری سطح پر بھی اسلام، تشیع، فقہ، حوزات علمیہ اور دینی اقدار کے خلاف شبہات پیدا کر رہا ہے۔ حوزہ علمیہ کو مضبوط علمی و تحقیقی بنیاد کے ذریعے ان شبہات اور معاشرے کی فکری ضروریات کا جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے مجتمع آموزشی و پژوهشی ائمہ اطہارؑ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے حوزہ کی روایتی تعلیمات کو آج کے معاشرے کی نئی ضروریات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ فقہ، اصول اور تفسیر کے ساتھ ساتھ نئے طبی، سماجی اور حکومتی مسائل پر بھی علمی نشستوں کا انعقاد قابلِ قدر ہے۔

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے سربراہ نے شیخ انصاریؒ کی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور کے مسائل کو گہرے علمی اور اجتہادی طریقے سے حل کیا اور فقہ و اصول میں ایسے آثار چھوڑے جو آج بھی علمی دنیا میں اہمیت رکھتے ہیں۔ آج بھی ہمیں ایسے شیخ انصاریوں کی ضرورت ہے جو جدید سماجی، اقتصادی، طبی، سائنسی اور حکومتی مسائل کا فقہی و اجتہادی بنیادوں پر جائزہ لے سکیں۔

انہوں نے حوزہ کی علمی شناخت برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حوزہ کو دوسروں کی پسند کے مطابق اپنی بنیادی اقدار تبدیل نہیں کرنی چاہئیں۔ تاہم قدیم علماء کے اجتہادی طریقے کو برقرار رکھتے ہوئے نئے مسائل کا علمی جواب ضرور دینا چاہیے۔

آیت اللہ حسینی بوشہری نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم کے مواقع کو غنیمت سمجھیں اور اساتذہ، علمی مراکز اور دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی علمی و روحانی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha